ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو ہار ہضم نہ ہوئی، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ شروع کر دیا

Pakistan SCO Summit 2026

ملک بھر کے حالیہ ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو ہار ہضم نہ ہوئی، سوشل میڈیا پر جیت کے جھوٹے پروپیگنڈے شروع کردیے۔

ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے متعدد اہم حلقوں میں واضح برتری حاصل کر لی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف مایوسی اور الجھن کا شکار نظر آ رہی ہے۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پنجاب کے مختلف حلقوں میں ن لیگ کے امیدوار آگے ہیں اور عوامی رجحان واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ پی ٹی آئی کو ووٹرز کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ہے۔

پنجاب میں ساہیوال کے پی پی-73 اور پی پی-203، ملتان کے پی پی-87، فیصل آباد کے این اے-96، این اے-104، پی پی-98، پی پی-115 اور پی پی-116، لاہور کے این اے-129، ساہیوال کے این اے-143، ڈی جی خان کے این اے-185 اور مظفرگڑھ کے پی پی-269 حلقوں میں ن لیگ کی برتری واضح رہی۔ خیبر پختونخوا میں ہری پور کے این اے-18 میں بھی مسلم لیگ ن نے اپنے حریف کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

نتائج سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے جیت کا کوئی حقیقی ماحول موجود نہیں ہے، اس کے باوجود پارٹی قیادت اور سوشل میڈیا ہینڈلرز نے بعض حلقوں میں جیت کے دعوے شروع کر دیے، جس کا مقصد صرف اپنے حامیوں کو متحرک رکھنا اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔

ضمنی انتخابات کے غیر حتمی نتائج نے عوامی رائے کو واضح کر دیا ہے، قومی اسمبلی کی چھ نشستوں این اے-18 ہری پور، این اے-96 اور این اے-104 فیصل آباد، این اے-129 لاہور، این اے-143 ساہیوال اور این اے-185 ڈیرہ غازی خان میں ن لیگ کی برتری ہے۔

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی-73 سرگودھا، پی پی-98 فیصل آباد، پی پی-115 فیصل آباد، پی پی-116 فیصل آباد، پی پی-203 ساہیوال، پی پی-269 مظفرگڑھ اور پی پی-87 میانوالی میں بھی ن لیگی امیدوار آگے ہیں۔

اب تک کے غیر حتمی نتائج کے مطابق لاہور کے این اے-129 اور ساہیوال کے این اے-143 میں بھی مسلم لیگ ن آگے ہے۔ سرگودھا کے پی پی-73، میانوالی کے پی پی-87، ڈیرہ غازی خان کے این اے-185 اور مظفرگڑھ کے پی پی-269 میں بھی ن لیگی امیدوار برتری لیے ہوئے ہیں۔

صرف ہری پور کے این اے-18 میں مقابلہ سخت ہے جہاں آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب خان فی الحال آگے ہیں جبکہ ن لیگ کے بابر نواز دوسرے نمبر پر ہیں۔

ضمنی انتخابات کے دن ووٹنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہوا اور شام پانچ بجے تک پرامن طور پر جاری رہا۔ ابتدائی نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا اور ان کے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جعلی مقبولیت کے دعوے بے نقاب کر دیے ہیں۔

پی ٹی آئی ہار ہضم نہ کر سکی اور اپنے سوشل میڈیا ہینڈلرز کے ذریعے بے بنیاد جیت کا پروپیگنڈہ شروع کر دیا، تاہم پولنگ اسٹیشنز سے موصول ہونے والے غیر حتمی اور مستند اعداد و شمار اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانیہ صرف پی ٹی آئی کے اندرونی حوصلہ بڑھانے اور اپنے ووٹرز کو متحرک رکھنے کی کوشش ہے، کیونکہ عوام نے عملی طور پر اپنی رائے دے کر پارٹی کو مسترد کر دیا ہے۔

غیر حتمی مگر مستند نتائج کے مطابق این اے-18 کے سوا باقی تمام حلقوں میں مسلم لیگ ن کی برتری برقرار ہے اور حتمی نتائج کے بعد انتخابی منظر نامہ مکمل طور پر واضح ہو جائے گا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top