پی ٹی آئی میں شدید اختلافات، سیاسی اور ٹیکنوکریٹ قیادت کے درمیان خلیج بڑھ گئی، پارٹی کی یکجہتی پر سوالات اٹھ گئے
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں سیاسی اور ٹیکنوکریٹ قیادت کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس سے پارٹی کے اندرونی محاذ پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سیاسی بیک گراؤنڈ رکھنے والے سینئر رہنما سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے خلاف متحرک ہو گئے ہیں اور پارٹی پر مسلط ٹیکنوکریٹ گروپ سے نجات کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سینئر سیاسی رہنماؤں نے علیمہ خان سے درخواست کی ہے کہ وہ بانی پارٹی سے ملاقات کر کے ان کی تجاویز کی منظوری حاصل کریں۔ پارٹی کے اندر سیاسی قیادت مذاکرات کی حامی ہے اور ریاست کے ساتھ ٹکراؤ سے گریز کرتی ہے، جبکہ وکلا گروپ مزید دباؤ بڑھانے اور سخت رویہ اپنانے پر مصر ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق وکلا گروپ اسمبلیوں سے استعفوں کے آپشن پر غور کر رہا ہے، جبکہ سیاسی رہنما پارٹی کے پارلیمانی کردار کو محدود کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ سینئر سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وکلا گروپ کے غیرسیاسی فیصلے پارٹی کو بند گلی تک پہنچا سکتے ہیں اور یہ صورتحال سیاسی قیادت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
مزید براں، اپوزیشن لیڈر کے لیے پارٹی سے باہر نامزدگیاں بھی اختلافات کی وجہ بنی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سیاسی کمیٹی کے فیصلوں کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر پارٹی کے سینئر سیاسی رہنما شدید برہم ہیں اور یہ صورتحال پارٹی کی یکجہتی کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی کے اندر یہ کشیدگی پارٹی کی اندرونی پالیسی سازی، فیصلوں میں شفافیت اور قیادت کے مستقبل کے کردار پر سوالات پیدا کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ ہفتوں میں پارٹی اندرونی محاذ پر اہم ملاقاتیں اور فیصلے متوقع ہیں، جو اختلافات کے حل یا بڑھنے کا تعین کریں گے۔





