پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی ارکان کو آزاد قرار دینے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، اسمبلی میں پارٹی اور آزاد ممبران کی حیثیت پر اہم اثر متوقع
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان اسمبلی کو آزاد قرار دینے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل کی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کو مخصوص نشستوں پر آزاد قرار دیا گیا ہے، جس پر وہ الیکشن ایکٹ میں سیاسی جماعت کی تعریف کو چیلنج کر رہے ہیں۔ وکیل نے استدلال کیا کہ الیکشن کمیشن یہ واضح کرے کہ آیا پی ٹی آئی واقعی ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں، اور اگر الیکشن ایکٹ اور رولز میں تضاد پیدا ہو تو ایکٹ کو ترجیح دی جائے۔
وکیل کے مطابق الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ارکان کو آزاد قرار دیا، جس کے خلاف یہ درخواست دائر کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے تمام دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو آئندہ کسی تاریخ کو سنایا جائے گا۔
یہ کیس سیاسی حلقوں میں اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے فیصلے سے اسمبلی میں پارٹی اور آزاد ارکان کی حیثیت اور قانون کے تحت ان کے حقوق واضح ہو جائیں گے۔





