تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کی آفتاب شیرپاؤ سےملاقات،قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیدی

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد نے آفتاب شیرپاؤ کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ۔
آفتاب شیرپاؤ نے کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے آئین پاکستان کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔ؤ

ملاقات کے بعد آفتاب شیر پاؤ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نےکہا کہ آج آئین عملی طورپر ختم ہو گیا، عدلیہ کمزور ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ 1973ء کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا جائے، این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر بھی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔

اسد قیصر نے کہا کہ ہمارا لیڈر آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے جیل میں ہے۔

آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ 1973ء کے آئین میں مزید تبدیلیاں قابلِ قبول نہیں ہوں گی، ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہو گا تو معیشت بھی آگے نہیں بڑھے گی۔

اُن کا کہنا ہے کہ پشاور جرگے میں بھی ہم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، سانحۂ اے پی ایس کے زخم اب بھی تازہ ہیں، صورتِ حال اب دوبارہ نازک ہیں۔

سربراہ قومی وطن پارٹی نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں یکجا ہو جائیں، 18ویں ترمیم میں کوئی تبدیلی قابلِ قبول نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں پر جب تک اتقاقِ رائے نہ ہو یہ قابلِ عمل نہیں ہو گا، لوگوں کی رائے مقدم ہے، اسے تسلیم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔

Scroll to Top