اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ تین روزہ لاہور دورہ مکمل ہو گیا اور وہ اپنے طے شدہ مقاصد میں کامیاب ہوئے ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے بتایا کہ لاہور میں ان کے وفد کو جان بوجھ کر سرکاری طور پر ہینڈل کیا گیا اور دورے کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو ان کے قافلے کے ساتھ شامل ہونے سے روکا گیا، مزار اقبال کو عوام سے خالی کروایا گیا، فوڈ اسٹریٹ بند کی گئی اور 80 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ 1100 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
معاون خصوصی نے مزید کہا کہ سیکیورٹی کے بہانے ان کی موومنٹ کو روکا گیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ خوف کے بت توڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔
پروگرام میں شریک پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما کوثر کاظمی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور کارکن امن و قانون کی بات نہیں کرتے بلکہ ہر معاملے کو تصادم کی طرف لے جاتے ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کوثر کاظمی نے کہا کہ اگر کسی فہرست میں نام شامل نہ ہو اور قانون کے مطابق کسی کو روکا جائے تو اس پر لڑائی شروع کر دینا پی ٹی آئی کی پرانی روش ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دورہ لاہور،سینئر صحافی طلعت حسین وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر برس پڑے
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے عوام رکاوٹوں اور دباؤ سے گھبرانے والے نہیں، وہ حالات کا سامنا کرنے والے ہیں اور کسی بھی انتشار کا حصہ نہیں بنتے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر قانون شکنی اور بدامنی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
کوثر کاظمی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کریں تاکہ ملک میں استحکام اور جمہوری عمل کو نقصان نہ پہنچے۔





