تیراہ میں اے این پی رہنما کے حجرے پر واقعہ،پارٹی کا ردعمل سامنے آگیا

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میدان میں صدر اے این پی ضلع خیبر عبدالرزاق آفریدی کے حجرے کو بارودی مواد سے اڑانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بزدلانہ فعل امن کے لیے آواز اٹھانے والوں کو خوفزدہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع میں امن و امان کی یہ حالت افسوسناک اور شرمناک ہے۔ وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع میں یہ صورتحال ہے تو باقی صوبے کا اللہ ہی حافظ ہے۔ بھتے دے کر دہشت گردوں کی سہولت کاری کرنے والے محفوظ ہیں، جو لوگ امن کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ان کو اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر صوبائی حکومت کو دورہ لاہور اور سیاسی تماشوں سے فرصت ملی ہو تو صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر بھی توجہ دے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ تیراہ میں اے این پی کے ضلعی صدر عبدالرزاق آفریدی کی رہائش گاہ کو اس سے قبل بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے، اب باقی ماندہ حصے کو بھی مکمل طور پر ملیامیٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گرد عناصر کھلے عام سرگرم ہیں جبکہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ صوبائی حکومت کی خاموشی اور نااہلی ان عناصر کو مزید شہ دے رہی ہے۔

صوبائی صدر اے این پی کا کہنا تھا کہ پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بدتر ہو رہی ہے۔ مرکزی و صوبائی حکومت صوبے کے بگڑتے حالات سے مکمل لاتعلق اور آپس کی رسہ کشی میں مصروف ہیں۔ صوبے میں گورننس کے دعوے تو ہو رہے ہیں مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سیاسی کارکنان سمیت عام عوام دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے حکومت کے پاس کوئی ٹھوس حکمت عملی موجود نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی عبدالرزاق آفریدی اور ان کے پورے خاندان سے مکمل اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی دہشت گردی، انتہا پسندی اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ اے این پی ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والی نہیں اور امن، جمہوریت اور پشتون حقوق کی جدوجہد پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔

Scroll to Top