مہوش قماس
اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اڈیالہ جیل پہنچے تاکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کریں، تاہم جیل حکام نے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔
وزیر اعلیٰ کے ہمراہ پارٹی کے دیگر ارکان بشمول سلمان اکرم راجہ، شاہد خٹک، مینا خان آفریدی، جنید اکبر اور دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔
ملاقات نہ ہونے پر پارٹی کے کارکنان نے جیل کے باہر دھرنا دے دیا تاکہ عوام اور حکام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بانی پارٹی کی صحت سے متعلق معاملات میں شفافیت اور قانونی حقوق کے مطابق مکمل طبی سہولت حاصل کریں۔
دھرنے کے دوران پارٹی رہنماؤں نے جیل انتظامیہ کے ساتھ قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل کر لیے تھے اور 6 رہنماؤں کی فہرست بھی جیل حکام کو ارسال کی گئی تھی۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج تمام پارلیمنٹیرینز سپریم کورٹ جائیں گے اور چیف جسٹس کو ایک باضابطہ یادداشت پیش کریں گے۔
یادداشت میں مطالبہ کیا جائے گا کہ عمران خان کو اہلِ خانہ اور ذاتی معالج سے ملاقات اور مکمل طبی معائنہ کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کے ذاتی معالج سے متعلق شفیع جان کا اہم انکشاف
پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ دھرنے کے بعد بھی وہ قانونی اور آئینی طریقہ کار اپناتے ہوئے عدالتوں میں اپنے مطالبات کے لیے سرگرم رہیں گے۔
طویل انتظار اور رات گئے دھرنے کے بعد پی ٹی آئی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ پارٹی کے مطابق آئندہ لائحہ عمل میں قانونی اور سیاسی راستے اپنانے پر زور دیا جائے گا۔





