شیراز احمد شیرازی
اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد قائد حزب اختلاف اور سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج اور یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن قوم کی بقا، آئین کی بالادستی اور جمہوری جدوجہد کا فیصلہ کن دن ہوگا۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 8 فروری جمہوری قائد عمران خان کی رہائی کے حصول کا ایک تاریخی اور فیصلہ کن دن ہے، جس کے لیے تمام قومی اور جمہوری قوتوں کی یکجہتی اور بھرپور عوامی عمل ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بطور اپوزیشن 8 فروری کو چھینے گئے ووٹ کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے اور پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جدوجہد میں شریک ہو۔
محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ اپوزیشن کو اپنی افواج اور پولیس سے کوئی دشمنی نہیں، بلکہ خواہش ہے کہ تمام ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ 25 کروڑ عوام کی رائے کو زور و زبردستی سے چھینا گیا ہے اور 8 فروری کو ووٹ چوری کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ختم، اندرونی کہانی سامنے آگئی
انہوں نے کہا کہ اس دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بیماری کا تاثر جان بوجھ کر پھیلایا جا رہا ہے تاکہ کارکنوں کو اصل مقصد سے ہٹایا جا سکے۔
ان کے بقول عمران خان کوئی عام آدمی نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کے لیڈر ہیں، اور اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ دعوے سے کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اتنی خراب نہیں جتنا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اصل مقصد تحریک کو کمزور کرنا اور توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کارکنان سے اپیل کی کہ وہ اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹیں اور مغرب سے مشرق تک بازاروں میں نکلیں۔
انہوں نے دکانداروں سے ایک دن کے لیے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو دکانیں اور کاروبار بند رکھے جائیں، جبکہ ٹرانسپورٹ تنظیموں سے بھی احتجاج میں ساتھ دینے کی درخواست کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی بہترین اسٹریٹ موومنٹ چلا رہے ہیں تاہم تحریک انصاف کے کارکنان کی توجہ اس جانب مزید بڑھنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی پشاور: اندرونی اختلافات پر کئی عہدیداران مستعفی
قائد حزب اختلاف نے اعلان کیا کہ کل یا پرسوں ملک کے طول و عرض میں مشعل بردار جلوس نکالے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج پُرامن ہوگا، نہ کسی کو مارنا ہے اور نہ گالی دینی ہے، بلکہ مطالبہ صرف آزاد الیکشن کمیشن اور شفاف عام انتخابات کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو پارٹی جیتے اقتدار سنبھالے اور دیگر پارٹیاں ایک دوسرے کو معاف کر کے ملک کی تشکیل نو کی طرف بڑھیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 8 فروری کے بعد اس جدوجہد کو ابتدا سے انتہا تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ذاتی دشمنی نہیں، لیکن ان پر آئین توڑنے، عدالتوں کے اختیارات محدود کرنے اور پیکا آرڈیننس جیسے اقدامات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مشعل بردار جلوسوں میں شریک ہوں اور ظلم کے خاتمے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد آئین، جمہوریت اور عوامی حق حکمرانی کی بحالی کے لیے ہے۔





