این ایل سی کی تاریخ ساز کامیابی،منفی 30 ڈگری میں بھی سوست ڈرائی پورٹ فعال، پاک چین تجارت نئی بلندیوں پر

نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) نے شدید سرد موسم میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوست ڈرائی پورٹ کو منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت میں بھی مکمل طور پر فعال رکھا جس سے پاک چین سرحدی تجارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

این ایل سی نے اپریل 2018 میں سوست ڈرائی پورٹ پر اپنے آپریشنز کا آغاز کیا تھا اور ابتدا میں انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا تاکہ تاجروں اور کارگو کی پروسیسنگ کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

ماضی میں ہر سال 30 نومبر کے بعد شدید برفباری اور خراب موسمی حالات کے باعث یہ پورٹ بند ہو جاتی تھی جس کے نتیجے میں چین کے شہر کاشغر اور اس کے گردونواح میں کارگو پھنس کر رہ جاتا تھا۔

اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے این ایل سی نے اپنی استعداد میں اضافہ کیا اور بندش کے عرصے میں بھی پورٹ کو فعال رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی۔

سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران پہلی مرتبہ سردیوں میں بھی پورٹ کھلی رہی، گزشتہ سال اسی عرصے میں تقریباً 597 گاڑیاں سوست ڈرائی پورٹ پہنچیں جبکہ اس سے قبل ان مہینوں میں کوئی آمدورفت نہیں ہوتی تھی۔

رواں سال صرف ایک ماہ کے دوران 320 گاڑیاں آ چکی ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اپریل تک مزید چار سے پانچ سو گاڑیاں اس راستے سے گزریں گی، جو تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری کا مظہر ہے۔

شدید موسمی حالات کے باوجود آپریشنز کو جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا، این ایل سی نے توانائی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے سولر سسٹم نصب کیا اور تین بڑے جنریٹرز لگائے، جبکہ کسٹمز اور دیگر نظاموں کو فعال رکھنے کے لیے انٹرنیٹ سروس کو بھی اپ گریڈ کیا گیا۔

رہائشی دفاتر میں جدید ہیٹنگ سسٹم نصب کیا گیا کیونکہ یہاں درجہ حرارت منفی 25 سے منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، تین مرتبہ برفباری کے باوجود لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا اور یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ پورٹ سردیوں میں بھی پوری طرح فعال ہے۔

سوست ڈرائی پورٹ پر کام کرنے والے عملے کا تقریباً 95 فیصد حصہ مقامی افراد پر مشتمل ہے جس سے علاقے میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔

این ایل سی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ تعلیم اور کھیلوں کے شعبوں میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے، سوست ہائی اسکول میں ایک نیا بلاک تعمیر کیا گیا جس سے تعلیمی سرگرمیوں اور امتحانات کے انعقاد میں سہولت پیدا ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ این ایل سی مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں کی سرپرستی بھی کر رہی ہے جن میں Tour de Khunjerab اور شندور پولو فیسٹیول جیسے اہم ایونٹس شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق سوست ڈرائی پورٹ کی سردیوں میں مسلسل فعالیت نہ صرف پاک چین تجارتی روابط کو مضبوط بنا رہی ہے بلکہ گلگت بلتستان کی معاشی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، اور اسے خطے کے لیے ایک حقیقی گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top