بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے اڈیالہ جیل میں آنکھ کے طبی معائنے کے معاملے نے سیاسی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
جیل انتظامیہ کی جانب سے فیملی سے معائنے کے لیے دو نام تجویز کرنے کی پیشکش علیمہ خان نے مسترد کر دی جس سے یہ واضح ہوا کہ فیملی صرف ذاتی معالجین کی موجودگی میں ہی کسی معائنے کی اجازت دے گی۔
عمران خان کے طبی معائنے پر پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے واضح کیا ہے کہ ذاتی معالجین کے بغیر کسی بھی طبی معائنے کو مسترد کیا جاتا ہے اور حکومت کی جانب سے پارٹی قیادت کو معائنے کے وقت جیل میں شامل ہونے کی دعوت کو بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔
پی ٹی آئی کے بیان میں کہا گیایہ معاملہ پارٹی قیادت کی موجودگی یا غیر موجودگی کا نہیں، بلکہ حساس طبی امور میں فیصلہ کرنے کا آئینی، اخلاقی اور قانونی حق صرف عمران خان کی فیملی کا ہے۔
فیملی اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی جب تک عمران خان کے ذاتی معالجین معائنے کے دوران موجود نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل ، میڈیکل ٹیم واپس روانہ ہو گئی
پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کی موجودگی میں شروع کیا جائے اور کسی بھی عمل کو شفاف، قابلِ اعتماد اور قابلِ قبول نہ سمجھا جائے۔





