پی ٹی آئی دھرنا ختم، شاہراہیں کھل گئیں، کارکنان قیادت پر برس پڑے

صوابی / کوہاٹ : صوابی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کا موٹروے پر دھرنا ہفتے کے روز ختم ہو گیا ہے۔

انتظامیہ کی کارروائی اور پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر صوابی سمیت پورے صوبے میں شاہراہیں کھول دی گئیں۔

پی ٹی آئی کارکنان نے صوابی موٹروے انٹرچینج پر کیمپ لگایا اور مطالبات کے طور پر پارٹی قیادت سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔

دھرنے کی وجہ سے موٹروے مکمل طور پر بند ہو گئی اور مسافروں، تاجروں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

قیادت میں خاص طور پر احمد خان نیازی، شفیع جان اور مینا خان کی غیر موجودگی کی وجہ سے غصے کی لہر دیکھی گئی۔ پی ٹی آئی کے بعض کارکنان نے قیادت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

رات گئے پولیس نے موٹروے پر کریک ڈاؤن شروع کیا اور دھرنے کے کیمپ کو ہٹایا۔ خوشحال گڑھ پل اور سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

اس موقع پر سینیٹر خرم ذیشان سمیت کوئی رکن اسمبلی دھرنے کے مقام پر موجود نہیں تھا۔

دھرنے کے خاتمے کے بعد موٹروے دوبارہ کھول دی گئی اور ٹر یفک روانی شروع ہو گئی۔ تاہم، کارکنان نے قیادت سے ناراضگی کا اظہار کیا اور ریسٹ ایریا تک محدود ہو کر احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں : آئی جی خیبرپختونخوا نے ہائی کورٹ کے حکم پر تمام ریجنل و ضلعی افسران کو سڑکیں کھولنے کی ہدایت جاری کر دی

پی ٹی آئی کی انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ISF) کے مراد خان نے صوبائی صدر مشرف آفریدی کے ہمراہ ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں دھرنا جاری رکھنے کے امکان کا اشارہ دیا گیا۔

دھرنے کے دوران موٹروے کی بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہائی کورٹ کے حکم پر شاہراہیں کھول دی گئی ہیں، لیکن کارکنان کی ناراضگی اور قیادت سے اختلاف رائے برقرار ہے۔ اس واقعے سے پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

Scroll to Top