پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد پشاور پولیس متحرک ہوگئی اور صوبے بھر میں بند شاہراہیں کھولنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے تمام ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کو فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی آمد و رفت میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
آئی جی کے مطابق سڑکیں کھولنے کا مقصد شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ اور ٹریفک کی روانی بحال کرنا ہے۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے مختلف اضلاع میں شاہراہوں کو کلیئر کرنے کی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک بحالی اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے مربوط اقدامات جاری ہیں، جبکہ مرکزی اور رابطہ سڑکوں کو مرحلہ وار کھولا جا رہا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ کا فوری شاہراہیں کھولنے کا حکم، تحریری حکم نامہ بھی جاری
پشاور ہائکورٹ نے خیبر پختونخوا میں سڑکیں آج ہی کھولنے کا حکم دیا تھا ، پشاور ہائیکورٹ سڑکوں کی بندش پر برہم ،،، پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ سٹرکیں بند کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوچکی ہے ؟
چوتھا روز ہے سب کچھ آپ نے بند کیا ہے، اب تک صوبائی حکومت نے کیا کارروائی کی ہے،،اب تک کتنے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی،، صوبے کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ، لوگ مر رہے ہیں ،،ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے کہا آپ نے تو سماعت سے قبل ہی ہمیں ذمہ دار قرار دے دیا،، وقت دیا جائے ،ڈیٹا مرتب کرنے میں وقت لگے گا،، میں کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہا۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا آپ نے خود بتایا کہ سٹرکیں لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجے کے معاملے پر بند کی ہیں،،ہم نے آپ کو سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں کہا،، آپ کا شوق ہے تو آپ بھی جاکر ان کے ساتھ احتجاج میں بیٹھ جائیں.





