اسلام آباد میں اپوزیشن کے دھرنے کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد سیاسی فضا میں نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن شیر افضل مروت نے وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے آئندہ ہاتھ نہ ملانے کا اعلان کر دیا ہے۔
اپنے بیان میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ وہ نہ کبھی سہیل آفریدی کے پیچھے گئے ہیں اور نہ ہی انہیں ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ علی امین گنڈاپور سے ملاقات کے بعد واپس جا رہے تھے کہ اس دوران سہیل آفریدی اور دیگر افراد وہاں موجود تھے۔
شیر افضل مروت نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا سے خوفزدہ رہتے ہیں اور انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اگر وہ علی امین گنڈاپور کے ساتھ بیٹھیں گے تو انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آئندہ وہ سہیل آفریدی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جاری اپوزیشن دھرنے میں شیر افضل مروت کی اچانک آمد نے صورتحال کو کشیدہ بنا دیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق ان کی آمد پر ماحول میں تناؤ دیکھنے میں آیا جبکہ سہیل آفریدی انہیں دیکھ کر اپنی نشست چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے تھے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ صرف علی امین گنڈاپور سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو دوستی نبھانا جانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “بڑے عہدے انسان کو بڑا نہیں بناتے بلکہ بڑا ظرف انسان کو بڑا بناتا ہے۔”
سیاسی حلقوں میں اس بیان کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے اور اسے پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی دوریوں کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔





