کانگریس کے مرکزی رہنما راہول گاندھی نے بھارت میں جاری آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سمٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک “منظم پی آر تماشہ” قرار دے دیا ہے۔
راہول گاندھی نے کانگریس کے آفیشل بیان کو شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت بھارتی ٹیلنٹ اور ڈیٹا کو ملک کے فائدے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اسے فروخت کے لیے پیش کر رہی ہے جبکہ اس اہم عالمی فورم پر بھارتی ایجادات کے بجائے چینی مصنوعات کی نمائش کی جا رہی ہے۔
کانگریس کی جانب سے جاری کردہ سخت ردعمل میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت نے اے آئی کے شعبے میں بھارت کو عالمی سطح پر مضحکہ خیز بنا دیا ہے۔
بیان کے مطابق جاری سمٹ میں چینی روبوٹس کو بھارتی مصنوعات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس پر چینی میڈیا نے بھی بھارت کا مذاق اڑایا ہے، جو ملک کے لیے انتہائی شرمناک صورتحال ہے۔
کانگریس نے مودی سرکار کے وزیر اشونی ویشنو کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایک ذمہ دار وزیر بھارتی سمٹ میں چینی روبوٹس کی تشہیر کر کے جھوٹ کو فروغ دے رہے ہیں۔
پارٹی کے مطابق مودی حکومت کی ان پالیسیوں نے ملک کے وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور اے آئی جیسے حساس اور اہم شعبے کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے پاس موجود ڈیٹا کی طاقت ہمیں اس شعبے میں عالمی لیڈر بنا سکتی تھی لیکن حکومت کی مبینہ نااہلی اور ڈھٹائی نے اس سنہری موقع کو گنوا دیا ہے۔





