امریکا میں امن کانفرنس، غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے بڑا مالی پیکج متوقع

واشنگٹن: امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ آج واشنگٹن میں اپنے نام نہاد بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کی میزبانی کریں گے، جس میں غزہ کی تعمیرِ نو، جنگ بندی کے استحکام اور مالی وسائل کے اعلانات پر غور کیا جائے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں دنیا بھر سے مدعو کیے گئے ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔ وائٹ ہاوس کی جانب سے باضابطہ طور پر 50 ممالک کو بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اب تک 35 رہنماؤں نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ 26 ممالک باضابطہ طور پر شامل ہو کر بانی اراکین کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔

کم از کم 14 ممالک نے دعوت مسترد کر دی ہے۔افتتاحی اجلاس کا بنیادی ایجنڈا غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل منصوبہ تیار کرنا ہے۔

غزہ کی پٹی حالیہ مہینوں میں شدید جنگ اور بمباری کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی کا شکار ہوئی، جس کے نتیجے میں انسانی بحران نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ، رہائشی عمارتیں، طبی مراکز اور تعلیمی ادارے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

امریکی انتظامیہ سفارتی سطح پر جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور بحالی کے اقدامات کو آگے بڑھانے پر زور دے رہی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ امریکا غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور تعمیرِ نو کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر 5 ارب ڈالر کے خصوصی فنڈ کے قیام کا اعلان کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی رہائی کے لیے فورس کا اعلان، مزاحمت کا ہر اول دستہ ہوگی، شفیع جان

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اجلاس میں ایک مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے قیام سے متعلق تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں، جس کا مقصد غزہ میں سیکیورٹی، امن و امان اور استحکام کو یقینی بنانا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار شریک ممالک کی سنجیدگی اور زمینی حقائق پر ہوگا۔

Scroll to Top