پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اعلان کردہ فورس مزاحمت کا ہر اول دستہ ثابت ہوگی اور اس کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے پُرامن جدوجہد کرنا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی جانب سے اعلان کردہ عمران خان رہائی فورس کی تفصیلات بیان کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فورس کا قیام خوش آئند ہے اور یہ مکمل طور پر پُرامن ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح 9 مئی جیسے واقعات کو دوبارہ دہرایا جائے، تاہم رہائی فورس کا مقصد کسی قسم کی پرتشدد کارروائی نہیں بلکہ قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کرنا ہے۔
شفیع جان کے مطابق اس فورس کی باقاعدہ ممبر شپ ہوگی اور چین آف کمانڈ بھی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا کوئی سیاسی وژن یا انتخابی مقصد نہیں ہوگا بلکہ اس میں صرف پُرامن اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آئین اور قانون کے مطابق احتجاج کرنا غیر آئینی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک اعلان سے حکومت کی پریشانی ظاہر ہو رہی ہے۔
اگر حکومت راستے بند کرے گی تو عوام کو سڑکوں پر آنے کا حق حاصل ہے اور مزاحمت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت کے لیے فضائی راستے بند، پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کا نیا اعلان
معاون خصوصی نے عمران خان کی صحت سے متعلق بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر فیملی کو آن بورڈ لیا جانا چاہیے کیونکہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی غیر سیاسی ہے اور وہ صحت کے معاملے پر فرنٹ پر ہے۔
پروگرام کے دوران شفیع جان نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر مختلف امور پر تفصیلی مشاورت ہوتی ہے، تاہم عوام کے سامنے تمام رہنما ایک پیج پر ہوتے ہیں۔
ان کے بقول عمران خان کے سیاست میں آنے کے بعد عوامی شعور میں اضافہ ہوا اور پارٹی کا ووٹ بینک بھی بڑھا۔
سیاسی حلقوں میں اس اعلان کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ فورس سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کرے گی یا معاملات مذاکرات کی جانب جائیں گے۔ آنے والے دنوں میں اس پیش رفت کے اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔





