کوئٹہ: بلوچستان کی سیاست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں صوبائی وزیر علی حسن زہری کو کابینہ سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق علی حسن زہری کی برطرفی کا فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی سفارش پر کیا گیا، جس کی منظوری گورنر بلوچستان نے دی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ علی حسن زہری کو فوری طور پر عہدے سے سبکدوش کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد صوبائی کابینہ میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سیاسی حلقوں میں اس اقدام کو اہم قرار دیا جا رہا ہے اور اسے صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور انتظامی امور سے جوڑا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے میں آئینی تقاضے مکمل طور پر مدنظر رکھے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سیاسی توازن کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے، اور
آنے والے دنوں میں اس کے اثرات صوبائی سیاسی منظرنامے پر واضح ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیرِ زراعت علی حسن زہری نے بلوچستان کابینہ سے استعفیٰ دے دیا
یاد رہے کہ بلوچستان کے وزیرِ زراعت و کوآپریٹو میر علی حسن زہری نے صوبائی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے میر علی حسن زہری نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو ارسال کر دیا ہے، جس پر حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد متوقع ہے۔
میر علی حسن زہری نے اپنے استعفیٰ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ وقت کی کمی کے باعث صوبے کے زرعی شعبے پر وہ توجہ نہیں دے سکے جو اس اہم محکمے کی ضرورت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بلوچستان کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے، اسی لیے اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفیٰ کے پس منظر میں دیگر عوامل بھی شامل ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق میر علی حسن زہری نے اپنے استعفیٰ میں یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ان کے حلقے میں بار بار مداخلت کی جا رہی تھی۔
جس پر انہوں نے احتجاجاً وزارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
سیاسی حلقوں میں اس استعفے کو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے لیے ایک اور بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کے اندرونی معاملات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔





