پاکستان نے افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایک اہم اور تیز رفتار کارروائی کی ہے۔
یہ کاروائی مستند انٹیلی جینس کی بنیاد پر کی گئی جس میں ان گروہوں کے مراکز نشانہ بنائے گئے جو وقتاً فوقتاً پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ان دہشت گردوں کے خلاف تھی جو پاکستان میں حملوں کے بعد افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھے، افغان شہریوں یا سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے تاثر کو مکمل طور پر جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔
کارروائی کے دوران چار صوبوں ننگرہار، خوست، پکتیکا اور پکتیا میں موجود 7 ٹھکانوں کو credible انٹیلی جینس کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان مراکز میں فتنہ الخوارج کی آپریشنل سطح کی قیادت کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور متعدد دیگر دہشت گرد بھی مارے گئے۔
پاکستان نے اس کارروائی کے دوران مصدقہ اطلاعات اور مکمل ثبوتوں کے ساتھ افغان طالبان رجیم کو فتنہ الخوارج اور ان کے ذیلی دہشت گرد گروہوں کی افغانستان میں موجودگی سے آگاہ کیا تاہم افغان رجیم کی سنجیدہ کارروائی نہ ہونے پر یہ اقدام ملکی قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر کیا گیا۔
پاکستان نے واضح کیا کہ اس کارروائی میں کسی معصوم عوام کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، اور یہ عناصر اسلام یا انسانی اقدار کے کسی بھی اصول سے مطابقت نہیں رکھتے۔
کارروائی میں مارے جانے والے اہم کمانڈرز کی تفصیلات بھی منظر عام پر آ گئی ہیں۔
پکتیکا صوبہ میں ضلع برمل کے علاقے میں واقع کیمپ الجہاد میں کارروائی کے دوران احمد خان ولد محمد گاؤں بالا حصار، خیبر پختونخوا، محمد یوسف ولد اسماعیل گاؤں شیر خان خیبر پختونخوا، عبداللہ ولد ولی گاؤں کلی حلیم بلوچستان، نور احمد ولد ناصر گاؤں برمل، خیبر پختونخوا سمیت مزید 22 کمانڈرز ہلاک ہوئے۔
خوست صوبہ میں حقانی نیٹ ورک کے زیر کنٹرول کیمپ پر کارروائی کے دوران بلال خان ولد محمد خان گاؤں شیران ضلع سوات، اسد اللہ ولد کریم اللہ گاؤں غرمیان ضلع خیبر، طاہر حسین ولد قادر حسین گاؤں پشمک ضلع میانوالی سمیت مزید 9 کمانڈرز مارے گئے۔
اسی طرح ننگرہار صوبہ کے اضلاع خوگیانی، غنی خیل اور بہسود میں کارروائیوں کے دوران نیک محمد ولد حامد گاؤں پنجوائی قندہار، احمد ولد محمد گاؤں مینگورہ سوات، فضل احمد ولد رحمت گاؤں کالام سوات سمیت مزید 11 کمانڈرز ہلاک کیے گئے۔
پاکستان نے افغان طالبان رجیم سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں سے پاک کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے گا اور مستقبل میں پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گا۔





