اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سینیٹ اجلاس میں واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں سرحد پار دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ردعمل دے گا اور اب صرف جنازے نہیں اٹھائے جائیں گے بلکہ ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناگاہیں اور تربیتی مراکز موجود ہیں، اور طالبان کو سرحد پار دھکیلنے کے لیے افغانستان نے پاکستان سے دس ارب روپے کی درخواست کی، جس کے لیے پاکستان تیار ہے، مگر ساتھ میں یہ گارنٹی مانگی گئی ہے کہ پاکستان میں مداخلت نہیں ہوگی۔
وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر پار سے دہشت گردوں کی دراندازی کی اطلاعات بار بار افغانستان کو فراہم کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں دہشت گردی کے حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور پاکستان اب صرف لاشیں اٹھانے والا ملک نہیں رہا، بلکہ ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موٹر سائیکل ایم ٹیگ مہم کا دوسرا مرحلہ تیز، آخری تاریخ مقرر
طارق فضل چوہدری نے زور دے کر کہا اب صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے، بھرپور جواب دیں گے اور ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان ایئر فورس نے افغانستان میں مخصوص مقامات پر انٹیلی جنس بیسڈ اسٹرائیکز کی ہیں، جس میں تقریباً 100 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں مکمل طور پر ہدف پر مرکوز تھیں اور ملکی دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔





