اپوزیشن اتحاد کا مذاکرات کے حکومتی پیشکش پرمثبت ردعمل دینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد کا مذاکرات کے حکومتی پیشکش پرمثبت ردعمل دینے کا فیصلہ

شیراز احمد شیرازی 

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظِ آئین کی اہم مشاورتی نشست ہوئی جس میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر مثبت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں گزشتہ شب ہونے والے اس اجلاس میں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس، شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سمیت دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا جس کے بعد سلمان اکرم راجہ اور شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر شرکاء نے اپوزیشن سربراہان کو حکومت سے رابطے بڑھانے کا مشورہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں : کوہستان کرپشن سکینڈل: 5 ارکانِ اسمبلی نیب کے ریڈار پر آگئے، گرفتاریوں کا امکان

طے پایا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس اتحاد کے فیصلوں کی روشنی میں رمضان المبارک کے دوران اہم حکومتی شخصیات سے رابطہ کر کے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں گے۔

رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ سیاسی لوگ ہیں اور مسائل کا حل ڈائیلاگ کے ذریعے نکالنے پر یقین رکھتے ہیں تاکہ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی ختم ہو۔

پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر اور عاطف خان نے مذاکرات کو ماحول کی بہتری سے مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت اپنا رویہ درست کرے اور سیاسی سپیس فراہم کرے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ پنجاب میں ایف آئی آر اور انتقامی کارروائیوں جیسے اقدامات مذاکراتی عمل میں رکاوٹ ہیں، اگر حکومت حالات نارمل کرنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھے گی تو اپوزیشن دو قدم آگے بڑھے گی۔

اپوزیشن اتحاد نے باضابطہ طور پر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے اور جلد ہی حکومتی رابطوں کے بعد اپنا موقف عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔

Scroll to Top