اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک مثبت اور بامعنی پیش رفت ہیں۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پیچیدہ معاملات میں فوری معاہدہ نہ ہونا فطری امر ہے، تاہم فریقین کو بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے تاکہ مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکے۔
ترجمان نے جنگ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے ہر صورت برقرار رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور کینیڈین ہم منصب مارک کارنی کا ٹیلیفونک رابطہ، امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف
انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ تنازع کے باعث تقریباً 20 ہزار سمندری کارکن مختلف جہازوں پر پھنس کر رہ گئے ہیں، جو ایک سنگین انسانی مسئلہ بن چکا ہے۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرے۔





