امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈی میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
مذاکرات کی ناکامی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی ممکنہ ناکہ بندی کے اعلان نے تیل کی عالمی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی دیکھی گئی ہے اور عالمی منڈی میں قیمتیں تقریباً 9 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی برقرار، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایران کو تیل نہ بیچنے دینے کا اعلان
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی معیار کے ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 98 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا ایران کے خلاف سخت اقدامات کیے جاتے ہیں تو عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔





