واشنگٹن : وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور شروع ہوتا ہے تو اس کے لیے اسلام آباد کو ہی ترجیح دی جائے گی، کیونکہ پاکستان اس معاملے میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بات انہوں نے ایک مصروف میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ خبریں درست نہیں کہ امریکا نے باضابطہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے۔
پاکستان اکیلا ثالث ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ ثالثی بہت پسند ہے۔۔ بہت سے ممالک نے آفر کی لیکن صدر چاہتے ہیں کہ پاکستان ہی اس ڈیل کو انجام تک پہنچائے ، وائیٹ ہاوس نے اسلام آباد میں مذاکرات کے اگلے راؤنڈ کی تصدیق کردی ۔ pic.twitter.com/P3Ky504vJM
— Kiran Naz (@kirannaz_KN) April 15, 2026
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اب بھی مذاکراتی عمل میں سرگرمی سے شامل ہے اور اب تک ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری رہی ہے۔
مذاکرات کے مقام سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں نہایت مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور اس وقت بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں اہم پل کا کام کر رہا ہے۔
ان کے مطابق اگرچہ کئی دیگر ممالک نے بھی ثالثی کی پیشکش کی، مگر امریکی صدر کی رائے ہے کہ اس عمل کو سادہ اور مؤثر رکھنے کے لیے پاکستان کے ذریعے ہی آگے بڑھنا بہتر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : 21 سالہ سفر اختتام پذیر،معروف اینکر اقرار الحسن کا بڑا اعلان
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ امریکی مطالبات کو تسلیم کرے، جنہیں صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں۔
براہِ راست مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم کسی حتمی اعلان سے پہلے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔





