ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستان اور ایران کے درمیان اخوت اور خیرسگالی کی نئی مثال قائم ہوئی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے وفد کے ہمراہ بدھ کے روز اہم سفارتی رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچے۔
دورے کی جاری کردہ تصویری جھلکیوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خصوصی فوجی وردی میں سرکاری طیارے سے اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ان کے استقبال کے لیے ایران کی اعلیٰ قیادت اور سفارتی حکام موجود تھے۔

تہران پہنچنے پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا گرم جوشی سے استقبال کیا، وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تھے ۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایران کے وزیر کارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، ایرانی وزیرخارجہ نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی شاندار میزبانی پر اظہار تشکر کیا ۔

فیلد مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے جس دوران اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

ایرانی صدر اور فیلڈ مارشل کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے ۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا، خطے میں پاکستان کی امن کوششوں کوسراہا۔

آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے سپیکر باقر قالیباف سے بھی اہم ملاقات کی، جس دوران دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ بھی کیا ۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی سپیکر باقر قالیباف کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور ایران کے دیگر حکام بھی شریک ہوئے۔
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی فوج کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں اُنہوں نے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر سے اہم ملاقات کی ۔

دورے کے دوران جاری ہونے والی تصویری جھلکیوں میں تہران میں خیرسگالی، گرمجوشی اور وقار کے مناظر کو نمایاں کیا گیا ہے، جنہیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورہ ایران کے موقع پر ایک خصوصی نغمہ جاری کیا گیا ہے جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات، امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
نغمے کے اشعار میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو امن کے سفیر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو برادر ملک میں خیرسگالی، اتحاد اور تعاون کا پیغام لے کر پہنچے۔ اشعار میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے باہمی احترام اور دوستی کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔





