اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور سنجیدگی سے کوشش کی جائے تو اللہ تعالیٰ خود راستے آسان کر دیتا ہے، اور پاکستان نے حالیہ علاقائی صورتحال میں اسی اصول کے تحت مثبت کردار ادا کیا۔
صوبائی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں پاکستان نے نمایاں کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے اس ممکنہ جنگ کی مخالفت کی اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کسٹمز کا سلور سویپ کیس، مزید افسران معطل، کوئٹہ میں نئی ٹیم تعینات کر دی گئی
ایاز صادق نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران کئی مواقع پر دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تلخی بڑھ جاتی تھی اور وہ اجلاس چھوڑ کر چلے جاتے تھے، تاہم نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر انہیں دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرتے رہے۔
انہوں نے اسحاق ڈار کی ذاتی کمٹمنٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ زخمی ہونے اور فریکچر کے باوجود اگلے ہی دن چین روانہ ہوئے تاکہ سفارتی کوششوں کو جاری رکھا جا سکے۔
ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس کی توجہ عوامی ترقی کے بجائے ذاتی مفادات پر مرکوز رہی۔
انہوں نے نواز شریف، شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے حلقے کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز فراہم کیے۔
ایاز صادق کے مطابق 2022 میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت بننے کے بعد ملک نے مشکل فیصلے کیے، جس سے معیشت کو سنبھالنے اور نظام کو بہتر بنانے کی بنیاد رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو شدید مہنگائی اور چیلنجز کا سامنا تھا، لیکن موجودہ قیادت نے ذمہ داری سنبھالی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی متوازن ہے اور ملک روس، چین، امریکا اور ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے، تاہم بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو دنیا نے تسلیم کر لیا، احسن اقبال
بھارت سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان کی قیادت کے ردعمل کے بارے میں غلط اندازہ لگا رہے تھے، تاہم پاکستانی قیادت نے دانشمندانہ فیصلے کیے اور عالمی سطح پر شفافیت دکھانے کے لیے تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔
ایاز صادق نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں کسی بڑے عالمی تصادم کو روکنے میں مددگار ثابت ہوئیں، اور اسے تاریخ کے اہم لمحات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف عالمی رہنما پاکستان کی ان کاوشوں کو سراہ رہے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت کی نیت اور کوششوں کی بدولت پاکستان کو عالمی سطح پر عزت ملی ہے اور ملک آہستہ آہستہ استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔





