کویت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل سے متعلق اپنے معاہدوں پر عملدرآمد سے وقتی معذرت کر لی ہے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں سکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے سبب جہاز رانی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کویت نے اپنے خریدار ممالک کو آگاہ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ طے شدہ مقدار میں تیل فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی بندش یا رکاوٹ فوری طور پر عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
حالیہ صورتحال کے بعد تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور توانائی بحران کے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کیا صحت سے متعلق مشوروں کے لیے اے آئی پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف کویت بلکہ دیگر خلیجی ممالک کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین پر دباؤ مزید بڑھے گا۔
اس پیش رفت نے درآمد کنندہ ممالک کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے جبکہ سرمایہ کار بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران وقتی بھی ہو سکتا ہے، تاہم اگر حالات مزید بگڑے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر طویل مدت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔





