واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے ایک نئی پیڈ سبسکرپشن سروس لانے پر کام کر رہا ہے، جس کا نام واٹس ایپ پلس رکھا گیا ہے۔
اس خبر کے سامنے آتے ہی صارفین میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اب واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے پیسے دینا ہوں گے؟ تاہم میٹا نے واضح کیا ہے کہ یہ سروس مکمل طور پر اختیاری ہوگی اور عام صارفین پہلے کی طرح مفت میسجنگ اور کالنگ کے فیچرز استعمال کرتے رہیں گے۔
اس نئی سروس کا مرکز صارفین کو اپنی ایپ کو مرضی کے مطابق سجانے یا پرسنلائزیشن کے اختیارات دینا ہے۔ واٹس ایپ پلس کے حامل افراد کو خصوصی اسٹیکرز، پسندیدہ رنگ ٹونز، نت نئے تھیمز اور ایپ آئیکنز تبدیل کرنے کی سہولت ملے گی۔
ایک اہم فیچر 20 چیٹس کو پن کرنے کی صلاحیت بھی ہے، جو عام ورژن میں محدود ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تھیمز اور وال پیپرز میں کی جانے والی تبدیلیاں صرف صارف کو اپنی اسکرین پر نظر آئیں گی اور دوسرے فریق کی چیٹ اس سے متاثر نہیں ہوگی۔
قیمتوں کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں اس کا ماہانہ چارج 230 روپے کے قریب ہو سکتا ہے۔ یہ اسپاٹی فائی اور نیٹ فلکس کے اسی ماڈل پر مبنی ہے جس کے تحت مختلف ممالک میں مقامی سطح پر قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں۔
اگرچہ یورپ اور میکسیکو کے لیے بھی قیمتوں کے کچھ اعداد و شمار سامنے آئے ہیںلیکن کمپنی نے ابھی تک کوئی آفیشل ریٹ لسٹ جاری نہیں کی۔
میٹا کا یہ تجربہ انسٹاگرام پلس کی طرح اپنی ایپس سے آمدن کے نئے ذرائع پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ میٹا نے سال 2025 میں 200 ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ آمدن حاصل کی ہے، اور اب وہ واٹس ایپ پلس کے ذریعے اپنے ساڑھے تین ارب سے زائد صارفین کو مزید سہولیات فراہم کر کے اس میں اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔





