واشنگٹن: واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ جے ڈی وینس کا متوقع دورۂ پاکستان فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تاخیر کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے واضح اور حتمی ردعمل کا نہ آنا ہے، جس کے باعث سفارتی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اگر ایران کی طرف سے مثبت پیش رفت سامنے آتی ہے تو نائب صدر جے ڈی وینس مختصر نوٹس پر پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ اس ممکنہ دورے کو خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی حرکیات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
Breaking News: Vice President JD Vance’s Pakistan trip is on hold after Iran failed to respond to American positions, a U.S. official said. Iran said it had not yet decided whether to resume talks with the U.S. https://t.co/25MNtNVpo9
— The New York Times (@nytimes) April 21, 2026
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے بمباری کی دھمکی دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے عسکری کارروائی ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ایران پر متعدد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا اور واضح کیا کہ اب کسی قسم کی مزید توسیع زیر غور نہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی افواج ایران کے خلاف ممکنہ ملٹری آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی کامیاب سفارتکاری؛ شاہزیب خانزادہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان تعمیری رابطوں کی تصدیق کر دی
ان کے مطابق اس اہم گزرگاہ کی ناکہ بندی ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران کا معاملہ بالآخر ایک بڑے معاہدے کے ذریعے حل ہو سکتا ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ پیش رفت درحقیقت ایران میں حکومتی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے اثرات خطے کی مجموعی صورتحال پر مرتب ہوں گے۔





