پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کو امریکا ایران مذاکرات کی کوششوں کے دروان بڑی کامیابی ملی ہے اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارٹروتھ سوشل پر جاری ایک مبینہ پوسٹ میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلق ایک اہم بیان سامنے آیا ہے، جس میں خطے کی صورتحال اور عسکری پالیسی سے متعلق بڑے دعوے کیے گئے ہیں۔
پوسٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے، جو غیر متوقع نہیں۔ ان کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ انہیں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ایک درخواست موصول ہوئی ہے، جس میں آرمی چیف عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف شامل ہیں۔
𝗗𝗼𝗻𝗮𝗹𝗱 𝗝. 𝗧𝗿𝘂𝗺𝗽 𝗧𝗿𝘂𝘁𝗵 𝗦𝗼𝗰𝗶𝗮𝗹 𝗣𝗼𝘀𝘁 𝟬𝟰:𝟬𝟵 𝗣𝗠 𝗘𝗦𝗧 𝟬𝟰.𝟮𝟭.𝟮𝟲
🚨STATEMENT OF PRESIDENT DONALD J. TRUMP:
Based on the fact that the Government of Iran is seriously fractured, not unexpectedly so and, upon the request of Field Marshal Asim…
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) April 21, 2026
مبینہ پوسٹ کے مطابق درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایران پر ممکنہ حملے کو اس وقت تک مؤخر کیا جائے جب تک ایرانی قیادت ایک مشترکہ اور متفقہ تجویز پیش نہیں کر دیتی۔
ٹرمپ کے مطابق اسی درخواست کے بعد انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ فی الحال اپنی کارروائی مؤخر کرے تاہم مکمل طور پر تیار رہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران سے نیا معاہدہ اوباما اور بائیڈن دور کے جوہری معاہدے سے بہتر ہوگا، ٹرمپ
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی افواج کو ایران کے خلاف “بلاکڈ” حالت میں رکھا جائے گا جبکہ جنگ بندی (ceasefire) کو بھی اس وقت تک بڑھا دیا گیا ہے جب تک مذاکرات مکمل نہیں ہو جاتے یا کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جاتا۔
یہ بات اہم ہے کہ یہ بیان تاحال آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے، جبکہ اس نوعیت کے دعوؤں پر باضابطہ سرکاری ردعمل یا بین الاقوامی تصدیق سامنے آنا ضروری ہوتا ہے۔
خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، تاہم اس کی سرکاری حیثیت اور سفارتی اثرات واضح ہونے کے لیے مزید تصدیق اور باضابطہ مؤقف کا انتظار کیا جا رہا ہے۔





