خیبر پختونخوا، سمارٹ لاک ڈاؤن اور مہنگائی سے 50 ہزار مزدور فاقہ کشی پر مجبور

خیبر پختونخوا، سمارٹ لاک ڈاؤن اور مہنگائی سے 50 ہزار مزدور فاقہ کشی پر مجبور

پشاور میں معاشی بحران شدت اختیار کر گیا، سمارٹ لاک ڈاؤن اور مہنگائی سے 50 ہزار مزدور فاقہ کشی پر مجبور

پشاور میں سمارٹ لاک ڈاؤن اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث معاشی صورتحال سنگین ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں شہر میں روزگار کے مواقع تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور ہزاروں خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران 50 ہزار سے زائد مزدوروں کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جبکہ ہزاروں دیہاڑی دار مزدور اور ڈیلی ویجز ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں میں شدید کمی کے باعث شہر میں بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

معاشی دباؤ کے باعث درجنوں افراد کے بجلی اور گیس کے کنکشن بھی منقطع کر دیے گئے ہیں، جس نے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

صدر انجمن تاجران نوتھیہ بازار محمد اشفاق خان خلیل کے مطابق موجودہ حالات میں کاروباری سرگرمیاں بدترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی بچانے کے لیے کاروباری اوقات کار پر عائد پابندیاں تاجروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں اور بیشتر تاجر اپنے روزمرہ اخراجات پورے کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث نہ صرف کاروبار سکڑ رہا ہے بلکہ گھریلو معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

شادی سیزن کے باوجود مارکیٹوں میں خریداروں کا رش نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث کاروباری بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

مقامی تاجر اور شہری حلقے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ معاشی سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکے اور متاثرہ طبقے کو ریلیف فراہم ہو سکے۔

Scroll to Top