اسلام آباد: ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ضلع اٹک کے جنڈ-1 کنویں سے گیس کی پیداوار دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے ترجمان کے مطابق جنڈ-1 کنویں سے یومیہ 21 ملین مکعب فٹ سے زائد گیس کی پیداوار شروع ہو گئی ہے، جبکہ اس سے قبل 2019 میں اس کنویں سے صرف 7 ملین مکعب فٹ گیس حاصل کی جا رہی تھی۔
ترجمان کے مطابق جدید تکنیکی اقدامات اور ماہر ٹیم کی کامیاب حکمت عملی کے ذریعے اس کنویں کو دوبارہ فعال بنایا گیا ہے، جس سے ملک کی گیس سپلائی میں بہتری متوقع ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ جنڈ-1 کنواں پہلے 2019 میں دکھنی گیس پروسیسنگ پلانٹ کے ذریعے پیداوار میں شامل کیا گیا تھا، تاہم زیرِ زمین پیچیدہ حالات اور زہریلی گیس کے زیادہ دباؤ کے باعث تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں پیداوار معطل کرنا پڑی۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق کمپنی کے ماہرین نے تفصیلی رسک اینالیسز کے بعد کنویں کی بحالی کا منصوبہ تیار کیا اور کامیابی سے مکمل کیا۔ آپریشن کے دوران زیرِ زمین آلات کو محفوظ طریقے سے نکالا گیا اور کنویں کی ساخت کو دوبارہ درست کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : مظفر آباد دورہ: ہیلی کاپٹر پر کتنا خرچ ہوا؟ اعداد و شمار جاری
مزید بتایا گیا کہ کنویں کی طویل المدتی حفاظت کے لیے خصوصی اینٹی کوریژن ٹیوبنگ بھی نصب کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی تکنیکی مسئلے سے بچا جا سکے۔
او جی ڈی سی ایل نے کہا ہے کہ جنڈ-1 کی بحالی سے ملک میں مقامی گیس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے موجودہ گیس قلت میں کمی آنے اور توانائی کے شعبے کو استحکام ملنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے، اور ایسے میں مقامی پیداوار میں اضافہ کو معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔





