واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز اور ایران سے متعلق ایک بڑا اور سخت بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور خطے میں صورتحال امریکی حکمتِ عملی کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تیار ہے اور ایران کے ساتھ کسی بھی وقت معاہدہ ممکن ہے۔
🚨🚨آبنائے ہمارے قبضے میں ہے اور اسے تبھی کھولا جائے گا جب ایران تمام شرائط پر سمجھوتہ کرے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ pic.twitter.com/qbEzasW29M
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) April 23, 2026
ان کے مطابق ایران کو بہتر ڈیل کے لیے موقع دیا جا رہا ہے اور اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے باعث ایران کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور وہ اس وقت معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے اندرونی حالات سے مکمل طور پر آگاہ ہے، تاہم وہاں قیادت کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران میں اپنے اہداف کا تقریباً 75 فیصد تک حصول ممکن بنا لیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے حالیہ جنگ بندی کے دوران اپنی عسکری صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم امریکی فوج کسی بھی لمحے انہیں ختم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : میں دباؤ میں نہیں ہوں،ٹرمپ کا ایران سے متعلق بڑا بیان
صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے معاملے میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال زیر غور نہیں اور امریکہ کسی بھی صورت میں اس آپشن کو استعمال نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ جلد بازی میں نہیں کیا جائے گا بلکہ ایسا معاہدہ چاہیں گے جو طویل المدتی اور دیرپا ہو۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے خبردار کیا کہ امریکی عوام کو آئندہ کچھ عرصے کے لیے پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔





