آئین اور 18ویں ترمیم کے دفاع کیلئے میدان میں آنے کا اعلان، مولانا فضل الرحمان

ڈیر ہ غازی خان : جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت آئین، صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں ترمیم کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کرے گی اور کسی بھی ممکنہ تبدیلی کی مخالفت کی جائے گی۔

ڈیرہ غازی خان میں سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کو منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ وقتی طور پر ملتوی کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اب وقت آ چکا ہے کہ آئین، اٹھارہویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے دفاع کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف آئین کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب پارلیمنٹ کو محض ربڑ اسٹیمپ بنا دیا گیا ہے، جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور این ایف سی ایوارڈ صوبوں کے آئینی حقوق ہیں، تاہم ان میں تبدیلی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتے توسیع کردی گئی، ٹرمپ

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ حقوق متاثر کیے گئے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ بعض حلقوں کی جانب سے صوبوں کی تقسیم کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کا قیام صوبوں کی ذمہ داری ہے اور اگر کسی صوبے کو درپیش صورتحال میں مدد درکار ہو تو وہ آئین کے مطابق وفاق سے رجوع کر سکتا ہے۔ تاہم اس بنیاد پر آئینی ترامیم کی بات کرنا مناسب نہیں بلکہ اسے سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوری اداروں کا استحکام ناگزیر ہے، اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی کمزوری یا مداخلت ناقابل قبول ہوگی۔

Scroll to Top