خیبرپختونخوا: اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کیلئے تاحیات مراعات کا بل زیرِ غور

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی مراعات، سیکیورٹی اور قانونی تحفظ میں اضافے کے لیے اہم قانون سازی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسمبلی کی خصوصی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ترمیمی سفارشات پر مشتمل رپورٹ ایوان میں پیش کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے مراعات اور الاؤنسز ایکٹ میں ترمیم کی تجویز متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس پر کمیٹی نے 6 اور 13 اپریل کو دو اجلاس منعقد کیے۔ ان اجلاسوں میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارکان نے شرکت کی اور متفقہ سفارشات تیار کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں : مظفر آباد دورہ: ہیلی کاپٹر پر کتنا خرچ ہوا؟ اعداد و شمار جاری

رپورٹ کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی مراعات اور الاؤنسز میں اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ صوابدیدی فنڈز بڑھانے اور اس اختیار کو فنانس کمیٹی کے سپرد کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ دیگر صوبوں میں سرکاری دوروں کے دوران وی وی آئی پی پروٹوکول دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

ترمیمی مسودے میں اسپیکر کو تین سرکاری گاڑیاں فراہم کرنے، خصوصی سیکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ بیرون ملک دوروں کے دوران ایک کے بجائے دو نجی ملازمین ساتھ لے جانے کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

سب سے اہم سفارشات میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو قانونی تحفظ دینا شامل ہے، جس کے تحت ان کے خلاف کارروائی یا گرفتاری کے لیے اسپیکر کی اجازت لازمی قرار دی جائے گی، جبکہ ان کی رہائش گاہوں پر چھاپوں پر بھی پابندی ہوگی۔

نئی ترمیم کے مطابق سابق اسپیکر کو تاحیات مراعات دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس میں ایک پرائیویٹ سیکریٹری، اسسٹنٹ، ڈرائیور، باورچی اور نائب قاصد کی فراہمی شامل ہے۔ اس کے ساتھ سابق اسپیکر کو تاحیات سابق اسپیکر کا عنوان استعمال کرنے کا حق بھی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتے توسیع کردی گئی، ٹرمپ

مزید برآں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو بی کیٹیگری سیکیورٹی دینے اور ارکان اسمبلی کو دو دو پولیس اہلکار فراہم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ان اقدامات کی ضرورت ہے۔

کمیٹی کے مطابق ارکان اسمبلی کی تنخواہ 80 ہزار روپے جبکہ سیشن الاؤنس ایک ہزار روپے ہے، تاہم اس ترمیم میں بنیادی توجہ مراعات اور سہولیات میں اضافے پر دی گئی ہے، نہ کہ تنخواہوں میں بڑے اضافے پر۔

دستاویز کے مطابق ماضی میں اسمبلی کو ایک ذیلی محکمہ سمجھا جاتا رہا، تاہم 2024 میں قانون سازی کے ذریعے اس کی حیثیت کو واضح کیا گیا۔ کمیٹی ارکان کے مطابق حالیہ ترمیم کا مقصد منتخب نمائندوں کو قانونی تحفظ اور بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

Scroll to Top