عباس عراقچی نے امریکا کو تحریری پیغامات پاکستان کے ذریعے پہنچا دیے، اصل حقیقت کیا ہے؟

اسلام آباد: ایرانی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایران کی سرخ لائن سے متعلق تحریری پیغامات پہنچائے ہیں۔

ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق یہ پیغامات جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز سمیت بعض حساس شرائط پر مشتمل تھے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیغامات کا تبادلہ ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں، بلکہ ایران کی جانب سے علاقائی صورتحال کو واضح کرنے اور اپنی سرخ لائنز کھل کر بیان کرنے کی ایک سفارتی کوشش ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق عباس عراقچی مکمل طور پر طے شدہ سفارتی حدود اور وزارت خارجہ کی ذمہ داریوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں اپنے دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : حج 2026: عازمین کی آمد کا سلسلہ تیز، شدید گرمی کے پیش نظر احتیاطی تدابیر جاری

بعد ازاں وہ روس روانہ ہو گئے ہیں جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے۔

اس سے قبل بھی عباس عراقچی ہفتے کے روز پاکستان کے دورے پر آئے تھے، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں کی تھیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران امریکا تعلقات اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت تصور کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top