وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں ملکی معیشت، زراعت اور صحت کے شعبوں سے متعلق دور رس نتائج کی حامل پالیسیوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔
اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم نے کابینہ کو مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کے باوجود قیمتوں کو بہتر انداز میں سنبھالنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس میں ملکی سطح پر ویکسین کی تیاری کی پالیسی کی منظوری دی گئی جس کے تحت ڈریپ کی نگرانی میں قیمتوں کے تعین اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی گئی۔پالیسی کا مقصد ویکسین کی درآمد پر انحصار کم کرنا، زرمبادلہ کی بچت اور ملک کو خود کفیل بنانا ہے۔
کابینہ نے نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی، نیشنل سیڈ پالیسی 2025 اور نیشنل اسکلز ڈیویلپمنٹ پالیسی کی بھی منظوری دی۔ان پالیسیوں کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور افرادی قوت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
نیشنل اسکلز ڈیولپمنٹ پالیسی کے تحت وفاق اور صوبے مل کر کام کریں گے جبکہ نجی شعبے کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کے لیے بین الاقوامی معیار کی تربیت اور سرٹیفیکیشن کے اقدامات بھی پالیسی کا حصہ ہوں گے۔
نیشنل سیڈ پالیسی کے تحت زرعی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد اضافے اور عالمی معیار کی سیڈ کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے اقدامات کیے جائیں گے جبکہ نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی کا مقصد تحقیق، ترقی اور زرعی بہتری کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں نیپرا کی سالانہ رپورٹ 2025 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 بھی پیش کی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ عمران احمد شاہ کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔





