قاضی حسین احمد ہسپتال نوشہرہ میں جعلی اسناد کے ذریعے بھرتیوں کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے جس پر اینٹی کرپشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق ہسپتال میں جعلی دستاویزات کے ذریعے بھرتیوں کی شکایات موصول ہوئی تھیں جن پر باقاعدہ انکوائری شروع کی گئی۔
تحقیقات کے دوران الزامات درست ثابت ہوئے اور یہ بات سامنے آئی کہ مختلف آسامیوں پر تقرریوں کیلئے جعلی اسناد استعمال کی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں میڈیکل فیکلٹی خیبرپختونخوا کے اسسٹنٹ رجسٹرار محمد الطاف، اسسٹنٹ کنٹرولر خیال محمد، جبکہ ہسپتال کے ڈائیلاسز ٹیکنیشنز آصف اللہ، محمد اویس، صباء گل، انعامیہ اور ساحرہ بی بی کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کرم، افغان شہریوں کو جعلی پاکستانی شناختی کارڈز کے اجرا کا بڑا سکینڈل بے نقاب
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق نامزد ملزمان میں سے محمد اویس کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، کیس سے متعلق تمام اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل میں مزید انکشافات بھی متوقع ہیں اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





