سوات کے سیلاب متاثرین کا صبر جواب دے گیا! 8 ماہ بعد بھی معاوضہ نہ ملا، حکومت کو آخری وارننگ

سوات کے سیلاب متاثرین کا صبر جواب دے گیا! 8 ماہ بعد بھی معاوضہ نہ ملا، حکومت کو آخری وارننگ

سوات میں گزشتہ سال 15 اگست 2025 کو آنے والے تباہ کن سیلاب کو آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود متاثرین تاحال حکومتی امداد سے محروم ہیں۔ سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے کہا ہے کہ ہزاروں تاجر اور گھروں کے مالکان اب بھی معاوضے کے انتظار میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

انہوں نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس نمائشی منصوبوں اور دیگر اخراجات کے لیے وسائل موجود ہیں، لیکن سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے فنڈز نہیں رکھے گئے، جو افسوسناک اور عوام دشمن طرزِ عمل ہے۔

ان کے مطابق حکومت نے 6 جنوری کو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں سیلاب سے متاثرہ املاک کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ متاثرین میں تقریباً تین ہزار گھروں اور ڈھائی ہزار دکانوں کے مالکان شامل ہیں جو ابھی تک امداد کے منتظر ہیں۔

عبدالرحیم نے مزید کہا کہ مینگورہ شہر میں سیلاب سے اربوں روپے کا نقصان ہوا، لیکن بحالی کے لیے کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے عوامی نمائندوں کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ سوات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی شروع نہ کی گئی تو تاجر برادری ہڑتال کرے گی اور ممبران اسمبلی کے گھروں کے سامنے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اپنے وعدے پورے کرے اور متاثرین کی مکمل بحالی یقینی بنائے۔

Scroll to Top