پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بجلی کمپنیوں نے ان صارفین کو نوٹس جاری کیے ہیں جنہوں نے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ صلاحیت کے سولر سسٹمز نصب کر رکھے ہیں۔
حکام کے مطابق ایسے صارفین نے کم لوڈ کے معاہدے کے باوجود زیادہ طاقت کے سولر سسٹم لگائے اور اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کی، جس سے سسٹم پر بوجھ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے۔
بجلی کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ صارفین کو 30 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے سسٹمز کو قواعد کے مطابق درست کریں، بصورت دیگر ان کے کنکشن منقطع کیے جا سکتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ “سنکشن لوڈ” وہ حد ہے جو بجلی کمپنی صارف کو فراہم کرنے کی اجازت دیتی ہے، اور اس سے تجاوز کرنا قواعد کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
نیٹ میٹرنگ سسٹم کی مکمل جانچ جاری ہے جبکہ نظام کو شفاف بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
اس فیصلے کے بعد سولر صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور کئی صارفین اپنی صورتحال کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔





