وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہِ حق آپریشن کے دوران پوری قوم پاک افواج کے ساتھ کھڑی رہی اور ہر پاکستانی نے اپنے اپنے انداز میں اس قومی جدوجہد میں حصہ لیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ معرکہِ حق میں پوری قوم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد رہی اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی ہمیشہ قومی اتحاد و اتفاق سے حاصل ہوتی ہے اور اس معرکے میں پاکستانی قوم ہر محاذ پر متحد نظر آئی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بیانیہ، سفارتی اور عسکری محاذ پر منفرد کامیابی اور فتح سے نوازا۔ ان کا کہنا تھا کہ رافیل طیاروں کے گرنے کے ساتھ بھارت کا غرور بھی خاک میں مل گیا جبکہ پاک فضائیہ اور ایئر ڈیفنس سسٹم نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں پاک فضائیہ کی تعریف کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دشمن کو ایسا مؤثر جواب دیا گیا کہ وہ صرف چار گھنٹوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن اور فیلڈ مارشل کی جرات مندانہ جنگی حکمت عملی کے باعث پاکستان فتح سے ہمکنار ہوا جبکہ دشمن فتح میزائلوں کے حملے برداشت نہ کرسکا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے بڑے بڑے دعوے چند گھنٹوں میں دم توڑ گئے اور بھارتی ترجمانوں کے چہروں سے شکست واضح نظر آ رہی تھی۔ عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کے منہ توڑ جواب کے بعد بھارت نے سیز فائر کیلئے منت سماجت شروع کردی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ معرکہِ حق میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت عطا کی اور آج دنیا پاکستان کو امن کی علامت کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتح کے بعد اوورسیز پاکستانیوں نے بھی فخر کے ساتھ پاکستانی پاسپورٹ کو نمایاں کیا جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:معرکۂ حق کو ایک سال مکمل، آئی ایس پی آر کے ملی نغمہ ’’اللہ اکبر، تیار ہیں ہم‘‘ کی بھرپور پذیرائی
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بیانیے کی جنگ تنہا نہیں لڑی جا سکتی تھی، اس کیلئے بہترین کوآرڈینیشن موجود رہی اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے لمحہ بہ لمحہ رابطہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا پر جا کر پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا کا کردار ذمہ دارانہ، قابل تحسین اور تاریخی رہا جبکہ عالمی سطح پر پاکستانی میڈیا کو بالغ نظر اور ذمہ دار میڈیا کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معرکہِ حق کے دوران پاکستانی میڈیا کا کردار سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔





