گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کے اجراء میں تاخیر کا امکان ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بینک نے نئے نوٹوں کے ڈیزائن منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کیے تھے، تاہم حکومت نے ان میں مزید بہتری اور کچھ مخصوص تبدیلیوں کی ہدایت کے ساتھ ڈیزائن واپس بھیج دیے ہیں۔ اسٹیٹ بینک اس وقت ان تبدیلیوں پر کام کر رہا ہے،جس کے بعد حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔
قبل ازیں کراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ تین سال قبل کے مقابلے میں آج کے معاشی حالات میں نمایاں فرق اور بہتری آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ معاشی بحالی کا عمل جاری ہے، تاہم اب بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی معاشی اثرات بھی شامل ہیں۔
جمیل احمد نے تجارت کے حوالے سے بتایا کہ سال 2023 کے مقابلے میں اب لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھلنے کی صورتحال بہت بہتر ہو چکی ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے واضح کیا کہ تین سال پہلے ملک کی ماہانہ درآمدات اوسطاً 3 ارب ڈالر تھیں، جو اب بڑھ کر 5 ارب ڈالر ماہانہ سے تجاوز کر چکی ہیں، جو کہ تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کی علامت ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے تاجر برادری کو یقین دلایا کہ مرکزی بینک معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان کی معاشی سمت درست ہے، تاہم پائیدار ترقی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔





