حکومتی وزرا کے آئینی ترمیم سے متعلق بیانات میں تضاد سامنے آ گیا ،ایک جانب 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تردید اور لاعلمی کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف مشاورت اور بات چیت جاری ہونے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق ان کے علم میں فی الحال کوئی بات نہیں اور جب بھی ایسی کوئی ترمیم آئے گی تو اس سے قبل اتحادی جماعتوں سے مشاورت لازمی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم سمیت عام قانون سازی بھی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بٹھا کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بحث جاری ہے اور جمہوری معاشروں میں مستقبل سے متعلق گفتگو ہوتی رہتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہر ایشو پر بات چیت ہوتی ہے اور اتفاق رائے کے بغیر کوئی ترمیم پیش نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا نجی اداروں کے ملازمین کے حوالے سے بڑا فیصلہ
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کسی معاملے پر ناراض نہیں، وہ حکومت کی اتحادی جماعت ہے اور ہر معاملے میں ساتھ دے رہی ہے، ان کے مطابق وزیراعظم بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں گے، جبکہ ناراضگی کی باتیں بے بنیاد ہیں۔





