شاہد جان
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں وزیرستان میں بیوروکریسی کی مبینہ بے ضابطگیوں اور محکموں کی نااہلی پر حکومتی بنچوں سے ہی بغاوت اٹھ کھڑی ہوئی جہاں حکومتی رکن آصف محسود نے محکمہ صحت کے خلاف توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے اپنے حلقے کے مسائل حل نہ ہونے پر اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دیدی۔
ایوان میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے حکومتی رکن آصف محسود نے انکشاف کیا کہ وزیرستان کی مختلف آسامیوں کے لیے ای ٹی ای اے (ETEA) کے ذریعے باقاعدہ ٹیسٹ منعقد کیے گئے تھے تاکہ میرٹ پر مقامی نوجوانوں کو روزگار مل سکے، تاہم اب یہ بات ہمارے علم میں آئی ہے کہ مذکورہ آسامیوں پر دوسرے اضلاع کے امیدواروں کو زبردستی بھرتی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہےجو یہاں کے پسماندہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
حکومتی رکن نے اپنے ہی محکموں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے محکمہ صحت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے مایوسی اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ایوان میں کھڑے ہو کر واضح الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر میں اپنے حلقے کے مسائل ہی حل نہیں کر سکتا تو مجھے اس ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔
انہوں نے صوبائی وزیر صحت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر صحت صاحب نے کبھی زحمت ہی نہیں کی اور انہوں نے کبھی ضم اضلاع کا دورہ ہی نہیں کیا، جس کی وجہ سے انہیں زمینی حقائق کا کوئی علم نہیں ہے۔
آصف محسود نے اپنے حلقے کی زبوں حالی کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں اسمبلی میں بیٹھے ہیں لیکن اپنے لوگوں کو نوکریاں تک نہیں دے سکتے۔ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ وزیرستان میں سکولز اور ہسپتال سارے کے سارے بند پڑے ہیں، وہاں کوئی متبادل انتظام نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرستان سب سے زیادہ پسماندہ علاقہ ہے، اور یہ پسماندگی خاص طور پر محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے حوالے سے ہے جہاں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ سپیکر صاحب! آپ اس معزز کرسی کا استعمال کر کے میرے اس سنگین مسئلے کا فوری حل تلاش کریں کیونکہ میرے حلقے کے عوام نے مجھے ووٹ دیا ہے اور وہ مجھ سے جواب طلب کریں گے، میں انہیں کیا منہ دکھاؤں گا۔
اس موقع پر سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے بیوروکریسی اور متعلقہ محکمے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
سپیکر نے حکام سے بازپرس کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آپ کا محکمہ اور بیوروکریسی ایک ضلع کی آسامیاں دوسرے ضلع کو کیسے دے رہے ہیں، اس کا اختیار انہیں کس نے دیا؟ سپیکر نے مزید کہا کہ کون اس بات کی ذمہ داری دے گا کہ یہ دوسرے اضلاع کے لوگ وزیرستان جیسے دور دراز ضلع میں جا کر اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں گے؟





