پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصف محمود کی امریکی کمیشن میں دوبارہ تقرری

پاکستانی ڈاکٹر آصف محمود کا امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (USCIRF) کے رکن کے طور پر مزید 2 برسوں کے لیے تقرر کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر آصف محمود نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے انتہائی بڑا اعزاز ہے کہ وہ پہلے پاکستانی، پہلے مسلمان اور پہلے ایشیائی ہیں جو مسلسل دوسری بار اس اہم عہدے پر خدمات انجام دیں گے۔ کیلیفورنیا اور پاکستان کے شہر کھاریاں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر آصف کی نئی مدتِ ملازمت 14 مئی 2028 تک ہوگی۔

ڈاکٹر آصف محمود کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر بالخصوص جنوبی ایشیا میں مذہبی اور انسانی حقوق کی آزادی کے لیے پہلے سے زیادہ مؤثر آواز بلند کرنے کی کوشش کریں گے۔

واضح رہے کہ اس ادارے کو وائٹ ہاؤس، محکمہ خارجہ اور امریکی کانگریس کی آنکھیں اور کان تصور کیا جاتا ہے، جبکہ ڈاکٹر آصف اپنے سابقہ دور میں اس کمیشن کے وائس چیئر کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی سینیٹ کے کمیٹی روم میں ہونے والی کمیشن کی آخری سماعت کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : دفاتر کے چکر ختم، نادرا نے ایف آر سی کے حصول کا طریقہ کار آسان بنا دیا

اس موقع پر ڈاکٹر آصف محمود نے مقبوضہ کشمیر میں مساجد کے پیش اماموں کا ڈیٹا جمع کیے جانے کی نشاندہی کرتے ہوئے زور دیا کہ مذہبی آزادی کی پامالی پر بھارت کو “انتہائی تشویش کا حامل ملک” قرار دیا جائے۔

کمیشن کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ بھارت پر زور دے کہ وہ مذہبی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ اداروں کو رسائی فراہم کرے۔

رپورٹ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور ’آر ایس ایس‘ پر پابندیوں سمیت متعلقہ اہلکاروں کے اثاثے منجمد کرنے اور ان کے امریکہ داخلے پر پابندی کی سفارش بھی کی گئی ہے، تاکہ امریکی سکیورٹی معاونت اور تجارت کو مذہبی آزادی کی صورتحال سے جوڑا جا سکے۔

Scroll to Top