سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقوں ابا خیل، پتی خیل اور بوبالی میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے ایک انتہائی مربوط اور کامیاب آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 30 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔
اس آپریشن کی سب سے بڑی کامیابی انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر تور ثاقب عرف حضرت عمر کی ہلاکت ہے،جس کے سر کی قیمت حکومت کی جانب سے 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔
فورسز نے کارروائی کے دوران اب تک 13 دہشت گردوں کی لاشیں قبضے میں لے لی ہیں جن میں کمانڈر تور ثاقب کی لاش بھی شامل ہے جبکہ دیگر ہلاک شدگان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے جدید ٹیکنالوجی اور فضائی نگرانی کی مدد سے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا اور ان کے 9 زیر زمین بنکرز سمیت 7 خفیہ ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
تباہ کیے گئے ٹھکانوں میں بوبالی کااہم مرکز بھی شامل ہے جو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیے جا رہا تھا۔ فورسز نے موقع سے 11 تیار آئی ای ڈیز (IEDs) برآمد کر کے انہیں ناکارہ بنا دیا جبکہ بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، ایم-16 رائفلیں، دستی بم اور مواصلاتی آلات بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شدید لڑائی کے دوران کئی دہشت گردوں کی لاشیں دریائے کیتو میں آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ جانے کی اطلاعات ہیں جن کی تلاش کے لیے مقامی سطح پر ریسکیو کا کام جاری ہے۔
آپریشن کے دوران 2 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔





