افغانیوں کو پاکستانیوں کے فیملی ٹری میں شامل کرنے کا انکشاف، 11 افرادگرفتار

کاشف الدین سید
پشاور میں مقیم افغان مہاجرین کی بے دخلی سے بچنے کے لیے پاکستانی شناختی کارڈز کے غیر قانونی حصول اور انہیں مقامی خاندانوں کے شجرہ نسب (ایف آر سی) میں شامل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

فقیر آباد پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 11 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں گروہ کے کارندے اور افغان باشندے شامل ہیں۔ اس جعل سازی میں نادرا اہلکاروں کے ملوث ہونے کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ایس پی فقیر آباد ریشم جہانگیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے ایک خفیہ اطلاع پر فقیر آباد کے ایک مکان پر چھاپہ مارا، جہاں اعتزاز، سلیمان خان، نیم شاہ، فواد، عرفان، اجمل، آصف اور قاری بشیر سمیت دیگر ملزمان ایک افغان خاندان کے لیے شناختی کارڈ بنانے کی ڈیل کر رہے تھے۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، جبکہ ان کا تعلق فقیر آباد، کینٹ، بڈھ بیر اور نوشہرہ سے بتایا جاتا ہے۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ گینگ گزشتہ 8 سے 9 ماہ سے مختلف اضلاع میں سرگرم تھا۔ یہ گروہ ایسے ضرورت مند اور غریب پاکستانی شہریوں کو تلاش کرتا جو پیسوں کے عوض اپنی خاندانی دستاویزات فراہم کرنے پر راضی ہو جاتے۔ بعد ازاں، یہ ملزمان 15 سے 16 لاکھ روپے کی بھاری رقم کے عوض غیر ملکیوں کو ان پاکستانی خاندانوں کے فیملی ٹری میں شامل کروا کر سرکاری دستاویزات تیار کرواتے تھے۔ پولیس نے فی الحال دو افغان باشندوں سمیت 11 افراد کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

Scroll to Top