مذاکرات کے فیصلے کو کمزوری نہ سمجھا جائے، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا بڑا اعلان

اسلام آباد: سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے کیونکہ ملک اس وقت شدید سیاسی بحران کی زد میں ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام پر بوجھ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ملک کا چلنا دشوار ہو گیا ہے، اس لیے مذاکرات کا مقصد ملک کو دوبارہ درست راستے پر لانا اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

علامہ راجا ناصر عباس نے سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام گرفتار سیاسی ورکرز بے گناہ ہیں اور اختلاف رائے رکھنا ہر شہری کا حق ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے ہاں صرف دین، قرآن، انبیاء اور اولیاء کی شخصیات مقدس ہیں، سیاسی لیڈران نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایل این جی کی قیمتوں بڑااضافہ ،نوٹیفکیشن جاری

ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو بات چیت ناگزیر ہے اور یہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے پہل کرے۔

قائد حزب اختلاف نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں تشریف لائیں کیونکہ ملک کو بحرانوں سے نکالنا انہی کا کام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملک کی بہتری کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں لیکن یہ عمل عزت اور وقار کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ ملک کو موجودہ سیاسی و معاشی عدم استحکام سے نکالا جا سکے۔

Scroll to Top