کاشف الدین سید
پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے عدم کنٹرول، اندرونی اختلافات اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث خیبرپختونخوا میں پارٹی مختلف گروپس میں تقسیم ہوگئی ہے جبکہ وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کیلئے پس پردہ رابطوں اور سیاسی جوڑ توڑ میں بھی تیزی آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں حکومتی سیٹ اپ کومیوزیکل چیئر بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور مختلف رہنما اپنے اپنے حمایتی اراکین اسمبلی کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی حکومت گرانے کیلئے بعض حلقوں کی جانب سے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ کئی اراکین اسمبلی خاموشی سے کسی سیاسی معجزے کے منتظر ہیں اور امید کررہے ہیں کہ موجودہ حکومت اندرونی اختلافات کے باعث خود ہی عدم استحکام کا شکار ہوجائے گی۔
ذرائع کے مطابق اس وقت صوبائی اسمبلی میں سب سے بڑا گروپ کسی مخصوص رہنما کی کھل کر حمایت نہیں کررہا اس گروپ میں 20 سے زائد اراکین صوبائی اسمبلی شامل بتائے جاتے ہیں جو وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی سے شدید ناراض ہیں تاہم یہ گروپ کسی بھی قسم کی سازش یا کھلی بغاوت کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں اور خاموشی سے حالات بہتر ہونے کا انتظار کررہا ہے۔
دوسرا بڑا گروپ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے حامیوں پر مشتمل ہے ذرائع کے مطابق اس گروپ میں 15 سے زائد اراکین اسمبلی شامل ہیں جن میں سابق اور موجودہ کابینہ اراکین بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ یہ گروپ دوبارہ علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر لانے کیلئے سرگرم ہے۔
اس گروپ کے اراکین کا موقف ہے کہ علی امین گنڈاپور کے دور میں گورننس بہتر تھی بیوروکریسی کنٹرول میں تھی اراکین اسمبلی کے مسائل حل ہورہے تھے اور سیاسی غیر یقینی کی صورتحال بھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔
ادھر تیسرا گروپ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کے حق میں سرگرم ہے ذرائع کے مطابق اس گروپ میں 12 سے زائد اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ گروپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بابر سلیم سواتی ایک بہترین منتظم کے طور پر اسمبلی امور چلا رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ بھی ان کے بہتر تعلقات ہیں۔
ذرائع کے مطابق بابر سلیم سواتی سٹیبلشمنٹ کے حوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا حلقوں میں بھی خاصے مقبول سمجھے جاتے ہیں۔ اس گروپ کا خیال ہے کہ اگر محمد سہیل آفریدی کسی قانونی یا سیاسی مشکل کا شکار ہوتے ہیں تو بابر سلیم سواتی وزارت اعلیٰ کیلئے مضبوط امیدوار ثابت ہوسکتے ہیں۔
چوتھا گروپ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے آصف محسود کے حق میں متحرک بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس گروپ میں 12 سے 15 اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ آصف محسود پی ٹی آئی کے سینیٹر اور عمران خان کے قریبی ساتھی دوست محمد خان کے صاحبزادے ہیں جبکہ پارٹی کے اندر بھی انہیں ایک متحرک اور جارحانہ رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ان کا دوٹوک موقف اور اراکین اسمبلی کے ساتھ مسلسل رابطے ان کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنارہے ہیں۔
دوسری جانب پارٹی میں سب سے کمزور گروپ خود وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا بتایا جارہا ہے ذرائع کے مطابق ان کی اپنی کابینہ کے متعدد اراکین بھی ان سے ناراض ہیں جبکہ چند قریبی ساتھی ہی ان کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور یہی وجہ سے کہ جب بھی سہیل آفریدی یا ان کی حکومت پر تنقیدہوتی ہے تو کوئی بھی ان کے دفاع کیلئے سامنے نہیں آتا تاہم عمران خان کی جانب سے نامزد کئے جانے کی وجہ سے بیشتر اراکین کھل کر ان کے خلاف بات کرنے سے گریز کررہے ہیں۔





