بجٹ 2026-27 میں سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری

آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ اقتصادی سروے 4 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

 ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ کی منظوری محرم الحرام سے قبل مکمل کرنا چاہتی ہے، تاہم ایران اور امریکا کے ممکنہ امن معاہدے کے باعث بجٹ کی تاریخ میں ردوبدل بھی کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ پنشن میں 5 سے 7 اعشاریہ 5 فیصد تک اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : قومی ٹیم میں بڑی تبدیلی، رضوان کو ہٹانے کی اصل وجہ سامنے آگئی

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں معاشی ماہرین نے ملکی معیشت اور آئندہ بجٹ کے خدوخال پر بریفنگ دی۔

معاشی ماہر علی سلمان نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں معاشی استحکام کے آثار نمایاں ہوئے ہیں اور پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 17 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 324 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم ملک میں مہنگائی کی شرح دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں ہدف کے مقابلے میں 611 ارب روپے کی کمی دیکھی گئی ہے۔

علی سلمان نے مزید بتایا کہ ملک میں فی کس آمدن میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور سالانہ بنیادوں پر فی کس آمدن تقریباً دو لاکھ تین ہزار روپے کم ہوئی ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی سربراہ سید نوید قمر نے کہا کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے تو اس سے مہنگائی میں کچھ حد تک کمی آ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بینک صارفین ہوشیار: آن لائن سروسز اور اوقات کار سے متعلق اہم خبر آگئی

اس پر علی سلمان نے مؤقف اختیار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی میں اضافے کو مزید بڑھایا۔

معاشی ماہر نے بریفنگ میں بتایا کہ حکومت نے اخراجات میں کمی کی ہے، جس کی بڑی وجہ سود کی ادائیگیوں میں کمی ہے۔ ان کے مطابق شرح سود کم ہونے سے حکومت کو مالی ریلیف ملا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو معیشت کیلئے مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی رکن جاوید حنیف نے سوال کیا کہ آیا حکومت کے نئے قرضوں میں کمی آئی ہے یا نہیں، جس پر علی سلمان نے جواب دیا کہ نئے حکومتی قرضوں میں کچھ حد تک کمی ضرور دیکھی گئی ہے۔

Scroll to Top