کانجو ٹاؤن شپ میں قائم سوات چڑیا گھر کو توسیع اور مالی معاونت کی عدم منظوری کے باعث بندش کے سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جس سے کروڑوں روپے مالیت کے جانوروں، پرندوں اور ملازمین کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
1 ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہونے والا یہ منصوبہ 2021 میں شروع کیا گیا تھا اور یکم جولائی 2025 کو اسے عوام کے لیے کھولا گیا، چڑیا گھر 93 کنال جبکہ مالم جبہ میں اس سے منسلک 18 کنال اراضی پر مشتمل ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت چڑیا گھر میں تقریباً 70 اقسام کے جانور اور 400 کے قریب پرندے موجود ہیں، جبکہ پارک اور دیگر تفریحی سرگرمیاں بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں، منصوبے میں 100 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں جن کے بے روزگار ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائی کورٹ نے چڑیا گھروں اور وائلڈ لائف پارکس کی 5 سالہ آڈٹ رپورٹ طلب کرلی
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر منصوبے کے لیے سالانہ 4 کروڑ روپے فنڈز مختص کیے گئے تھے، تاہم انتظامیہ نے سالانہ 3 کروڑ 10 لاکھ روپے اضافی فنڈز اور توسیع کی درخواست بھی کر رکھی ہے، اس کے باوجود مطلوبہ مالی معاونت کی منظوری نہ ملنے کے باعث ادارہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
اطلاعات کے مطابق اگر 30 جون 2026 تک منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ نہ کیا گیا تو چڑیا گھر کی بندش کا خطرہ بڑھ جائے گا، جس کے نتیجے میں نہ صرف عملہ متاثر ہوگا بلکہ قیمتی جانوروں کی دیکھ بھال بھی ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔
عوامی و سماجی حلقوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم سیاحتی اور تفریحی منصوبے کو بند ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر مالی معاونت اور توسیع کی منظوری دی جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک چلانے پر غور کیا جائے گا۔





